ین برس کے بعد ہم تین سہیلیوں نے بالآخر ایک جگہ مل بیٹھنے کا پروگرام بنایا۔فاطمہ بھی ہمارے گروپ میں شامل تھی ۔ جب وہ ہماری میز کی طرف آرہی تھی تو میں نے اسے خفیف سا لنگڑا تے ہوئے دیکھا ۔
میں نے اس سے پوچھا:”کیا تم گرگئی تھیں یا تمھیں چوٹ لگ گئی،جویوں لنگڑا کر چل رہی ہو؟“
وہ دھیرے سے مسکرائی اور کہا:”نہیں ،ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔
ہمیں بہت صدمہ ہوا ،اس لیے کہ فالج کے مریضوں کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ عام افراد کی طرح زندگی نہیں گزار پاتے ،لیکن فاطمہ سوائے معمولی سالنگڑا نے کے عام افراد جیسی تھی ۔وہ ہشاش بشاش اور توانا تھی۔
ڈاکٹر جاوید اقبال کہتے ہیں کہ فالج ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زندگی کا خاتمہ ہو گیا اور مریض اب حرکت نہیں کر سکتا۔
ڈاکٹر جاوید اقبال کہتے ہیں کہ فالج ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زندگی کا خاتمہ ہو گیا اور مریض اب حرکت نہیں کر سکتا۔
فالج کی دو اقسام ہیں :پہلی کو کمیِ خون والا فالج (ISCHEMIC STROKE)کہتے ہیں ،جس میں خون کی شریا نیں سخت اور تنگ ہو جاتی ہیں ،اس بنا پر جسم کے سارے حصوں ،خاص طور پر دماغ تک خون کی فراہمی بند ہونے لگتی ہے ۔دوسری قسم کی جریانِ خون والافالج (HEMORRHAGIC STROKE)کہتے ہیں ،جس میں دماغ کی رگیں پھٹ جاتی ہیں اور خون بہنے لگتا ہے ۔اس سے جسم میں ورم اور سوجن ہوجاتی ہے ،پھر مزید خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے ۔
جریانِ خون کی دو اقسام ہیں :پہلی میں دماغ کے اندر کی شریانیں پھٹ جاتی ہیں ،جب کہ دوسری میں وہ بافتیں (TISSUES) پھٹ جاتی ہیں ،جو دماغ میں پھیلی ہوتی ہیں ۔اگر اس کا دورانیہ ایک گھنٹے سے کم ہوتو پھر اسے چھوٹے حملے والا فالج کہنا چاہیے ،اس سے مریض فوراً ہلاک نہیں ہوتا ،البتہ اس کی جان خطرے میں پڑجاتی ہے ۔
ہائی بلڈ پریشر ،کو لیسٹرول کی زیادتی ،غیر صحت مندانہ طرز زندگی ، ناقص غذا،ذیابیطس،مٹاپا،غیر متحرک رہنا ،عمر رسیدگی ، تمبا کو نوشی ،منشیات کے استعمال اور کام کی زیادتی کے باعث جسم کی شریانیں سخت ہو جاتی ہیں ۔اس کے علاوہ دماغ میں شریانوں اور وریدوں کے مابین غیر طبعی (ABNORMAL) اتصال سے بھی فالج ہو جاتا ہے یا خون کی شریانیں سُوج جاتی ہیں ۔
وہ معالج جو فالج کا حملہ ہونے کے بعد مریض کا معائنہ کرتا ہے ،وہ سب سے پہلے مریض کی ظاہری حالت دیکھتا ہے ،مریض کے خاندانی حالات کا مطالعہ اور بلڈ پریشر کا معائنہ کرتا ہے ۔اس کے بعد مریض کا سی ٹی اسکین اور ایم آئی آر کروایا جاتا ہے ،تا کہ اندازہ ہو سکے کہ مریض کس حد تک متاثر ہوا ہے ۔پھر وہ فالج کی قسم کا تعین کرتا ہے ۔
تاکہ مجروح شریانوں کو جوڑا جا سکے۔
اس کے علاوہ بلڈ پر یشر پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے ۔ایک معالج کے مطابق فالج کا حملہ ہونے کے بعد زندگی تبدیل ہو جاتی ہے ،جس میں مریض کی جسمانی ،جذباتی اور دماغی کیفیت پر اثر پڑتا ہے ۔اس کے بعد شفایابی میں چھے ماہ سے لے کر کئی برس لگ سکتے ہیں ۔
اس سب باتوں پر عمل کرنے کے لیے مریض کی قوتِ ارادی اور اس کا تعاون بھی ضروری ہے ۔نفسیاتی علاج اس لیے ضروری ہے کہ مریض اضطراب وتشویش کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس پر اضمحلال و افسردگی طاری ہو جاتی ہے ۔
جسمانی علاج کے ذریعے کو شش کی جاتی ہے کہ مریض کے دماغ کو خاص قسم کے اشارے دیے جائیں ،تا کہ وہ بیدار ہو جائے اور معمول کے مطابق کام کرنے لگے ۔مریض کے لیے ہلکی ورزش بھی ضروری ہے ۔اس سے مریض کو عضلات اور اعصاب کی کم زوری پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے ۔پھر اس کے ہاتھ پیرکام کرنے لگتے ہیں ۔
فالج سے نجات پائی جاسکتی ہے ،بشر طے کی طرزِ زندگی میں تبدیلی پیدا کی جائے اور صحت بخش غذائیں کھائی جائیں ۔سرخ گوشت ،چکنائی اور نمک کھانا ترک کر دیا جائے ۔پھل اور سبزیاں زیادہ سے زیادہ کھائی جائیں ۔بلڈ پریشر ،شکر اور کولیسٹرول کو پابندی سے چیک کیا جائے ،منشیات اور تمبا کو نوشی سے اجتناب کیا جائے اور نیند کے اوقات مقرر کیے جائیں ۔