الیکشن کے قریب سب کو فری ہینڈ دیا جائے‘ سہیل وڑائچ نے انتخابات سےمتعلق ریاست کی نئی حکمت عملی بیان کردی
Urdu NewsJanuary 24, 2024
0
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 24 جنوری 2024ء ) سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے الیکشن کے حوالے سے ریاست کی نئی حکمت عملی بیان کردی۔ روزنامہ جنگ کیلئے اپنے کالم میں انہوں نے لکھا کہ جب نواز شریف نے لندن سے آنا تھا تو ریاستی حکمت عملی یہ نظر آ رہی تھی کہ سارا اقتدار و اختیار باؤ جی کی جھولی میں ڈال دینا ہے، اس حد تک کہا گیا کہ سندھ میں بھی پیپلز پارٹی کو اقتدار نہیں دینا اور باقی سارے ریاستی انڈے بھی باؤ جی کے ٹوکرے میں ڈال دینے ہیں، کچھ ہفتوں بعد سوچ میں پھر تبدیلی آئی، پیپلزپارٹی کو سندھ میں دبانے کی حکمت عملی بدل گئی اور کہا جانے لگا مخلوط مینڈیٹ آئے گا، وزیراعظم نواز شریف اور صدر آصف زرداری بنیں گے، اندازہ یہ لگایا گیا کہ 70 سے 80 نشستیں ن لیگ لے گی اور 50 سے 60 نشستیں پیپلزپارٹی لے گی یوں ان کی مخلوط حکومت بنائی جائے گی۔
انہوں نے لکھا کہ پھر ایک نئی حکمت عملی سامنے آئی کہ تحریک انصاف کو آزادانہ موقع ملا تو وہ انتخابات سویپ کر جائے گی اس لئے انتخابات کو ملتوی کروایا جائے، اس کوشش کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کامیاب نہ ہونے دیا، اسی دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے ایک اہم سائفر مقدمے میں عمران خان کو بری کر دیا ساتھ ہی ساتھ پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو ریلیف دیا تو ریاست اور عدلیہ میں مکمل ٹھن گئی ایسی تجاویز تک سامنے آنے لگیں کہ ججوں کو فارغ کیسے کیا جائے مگر پھر عدلیہ اور ریاست میں درمیانی راستہ نکال لیا گیا، تحریک انصاف سے بلے کا نشان واپس لیا گیا تو پھر سے حکمت عملی میں تبدیلی نظر آنا شروع ہو گئی، اب دوبارہ سے جہانگیر ترین اور علیم خان کی آئی پی پی کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔
سینئر صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ تازہ ترین تبدیلی جو حکمت عملی میں آ رہی ہے یہ کہ الیکشن کے قریب سب کو فری ہینڈ دیا جائے کیوں کہ اب سوچ یہ ہے کہ نون کو بھی اتنا طاقتور نہیں کرنا کہ وہ کل کو ریاست کے خلاف کھڑی ہوسکے، اس لیے ریاست کی حکمت عملی اب ن لیگ کی اندھا دھند حمایت والی نظر نہیں آرہی حالاں کہ مسلم لیگ ن کی حکمت عملی شروع ہی سے یہ تھی کہ انتظامیہ ان کی مرضی کی ہو اور وہ وقت آنے پر ان کی بھی مدد کرے اور ابھی تک ن لیگ کو اپنی مرضی کی انتظامیہ کی حد تک تو فائدہ ہو رہا ہے۔
سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ اگر ریاست کی بدلتی حکمت عملیوں کا ناقدانہ جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آرہا ہے سیاسی اہداف میں مکمل کنفیوژن ہے، کبھی کچھ اہداف مقرر کیے جاتے ہیں اور کبھی کچھ اور اہداف ہوتے ہیں، ظاہر ہے اس طرح کی بدلتی حکمت عملیوں میں کسی بھی واضح پلان پر عملدآمد ممکن نہیں رہتا، الیکشن کا رزلٹ کیا ہوگا ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن یہ بات البتہ طے ہے کہ الیکشن جیسا بھی ہو بہرحال تبدیلیاں ضرور لاتا ہے۔