واشنگٹن/اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 25 جنوری 2024ء ) عالمی جریدے ’ٹائم میگزین‘ نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ پاکستان کی سٹیلشمنٹ نے نواز شریف کے پلڑے میں اپنی حمایت ڈال دی ہے جس کا بالآخر مطلب یہ ہے کہ وہ اقتدار میں واپسی کے لیے تیار ہیں لیکن عمران خان کی پائیدار مقبولیت کا مطلب ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے ابھی مزید "ہتھکنڈوں" کی ضرورت ہوگی کیوں کہ اقتدار میں رہتے ہوئے پی ٹی آئی کی تمام تر سر گرمیوں اور انتہائی ناقص گورننس ریکارڈ کے باوجود رائے عامہ سروے سے معلوم ہوتا ہے جیل میں قید عمران خان کی مقبولیت اب بھی نواز شریف سے زیادہ ہے، عمران خان کو اقتدار سے باہر رکھ سکتے ہیں لیکن ان کی مقبولیت کم نہیں کی جاسکتی۔
میگزین نے لکھا ہے کہ عمران خان کے برعکس نواز شریف کو کاروبار دوست اور امریکہ نواز سمجھا جاتا ہے، افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات چین، یوکرین اور اب غزہ کی طرف منتقل ہوئی ہیں، اس کے باوجود اسلام آباد میں ایک قابل اعتماد پارٹنر کی اہمیت برقرار
ہے، پاکستان میں امریکی ترجیحات دہشت گردی پر قابو پانا اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا ہیں اور نواز شریف کا ان دونوں معاملات میں ریکارڈ بہتر ہے۔
آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ضروری نہیں کہ یہ ترجیحات پاکستان کی سٹیبلشمنٹ کی بھی ہوں جو شاید آج نواز شریف کی پشت پناہی کر رہے ہیں لیکن ماضی میں تین بار ان کی برطرفی کا کام کر چکے ہیں، ویسے تو پاکستان کے کسی بھی وزیر اعظم نے مدت پوری نہیں کی، حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں کسی بھی سیاستدان کے حالات وقتی طور پر برے ہو سکتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی مکمل طور باہر نہیں ہوتے۔