Type Here to Get Search Results !

’عمران خان کو اقتدار سے باہر رکھ سکتے ہیں لیکن ان کی مقبولیت کم نہیں کی جاسکتی‘ پاکستان میں کسی سیاستدان کے حالات وقتی طور پر برے ہو سکتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی مکمل طور پر باہر نہیں ہوتے، عمران خان کی پائیدار مقبولیت کا مطلب ہے مزید "ہتھکنڈوں" کی ضرورت ہوگی۔

 واشنگٹن/اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 25 جنوری 2024ء ) عالمی جریدے ’ٹائم میگزین‘ نے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ یہ کوئی راز نہیں ہے کہ پاکستان کی سٹیلشمنٹ نے نواز شریف کے پلڑے میں اپنی حمایت ڈال دی ہے جس کا بالآخر مطلب یہ ہے کہ وہ اقتدار میں واپسی کے لیے تیار ہیں لیکن عمران خان کی پائیدار مقبولیت کا مطلب ہے کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کیلئے ابھی مزید "ہتھکنڈوں" کی ضرورت ہوگی کیوں کہ اقتدار میں رہتے ہوئے پی ٹی آئی کی تمام تر سر گرمیوں اور انتہائی ناقص گورننس ریکارڈ کے باوجود رائے عامہ سروے سے معلوم ہوتا ہے جیل میں قید عمران خان کی مقبولیت اب بھی نواز شریف سے زیادہ ہے، عمران خان کو اقتدار سے باہر رکھ سکتے ہیں لیکن ان کی مقبولیت کم نہیں کی جاسکتی۔


عالمی جریدہ لکھتا ہے کہ ایک بڑا سوال یہ ہے عالمی برادری اس طرح کی کھلے عام کی بے قاعدگیوں کے سامنے اس قدر خاموش کیوں ہے؟ خاص طور پر امریکہ جو بائیڈن انتظامیہ کے تحت جمہوریت کے فروغ کو خارجہ پالیسی کی اہم ترجیح بنانے کا دعویٰ کرتا ہے، دراصل سچ یہ ہے کہ روس اور چین کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دینے کے بعد عمران خان خان کے مغرب میں بہت کم دوست ہیں، واشنگٹن ڈی سی میں ولسن سینٹر میں ساؤتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کہتے ہیں کہ "امریکہ کے نقطہ نظر سے ان کے لیے پاکستان میں عمران خان کے علاوہ کوئی بھی اور حکمران بہتر ہوگا"۔


میگزین نے لکھا ہے کہ عمران خان کے برعکس نواز شریف کو کاروبار دوست اور امریکہ نواز سمجھا جاتا ہے، افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات چین، یوکرین اور اب غزہ کی طرف منتقل ہوئی ہیں، اس کے باوجود اسلام آباد میں ایک قابل اعتماد پارٹنر کی اہمیت برقرار


 ہے، پاکستان میں امریکی ترجیحات دہشت گردی پر قابو پانا اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا ہیں اور نواز شریف کا ان دونوں معاملات میں ریکارڈ بہتر ہے۔


آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ضروری نہیں کہ یہ ترجیحات پاکستان کی سٹیبلشمنٹ کی بھی ہوں جو شاید آج نواز شریف کی پشت پناہی کر رہے ہیں لیکن ماضی میں تین بار ان کی برطرفی کا کام کر چکے ہیں، ویسے تو پاکستان کے کسی بھی وزیر اعظم نے مدت پوری نہیں کی، حقیقت یہ بھی ہے کہ پاکستان میں کسی بھی سیاستدان کے حالات وقتی طور پر برے ہو سکتے ہیں لیکن وہ کبھی بھی مکمل طور باہر نہیں ہوتے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.