لاہور ( اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 جنوری 2024) پی ٹی آئی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاوید کورہا ہونے کے بعد دوبارہ شادمان تھانہ حملہ کیس میں گرفتار کرلیاگیا۔پولیس صنم جاوید کو پریزن وین میں لے کر کوٹ لکھپت جیل سے روانہ ہوگئی۔صنم جاوید کو دوسری بار رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا ہے۔بتایاگیا ہے کہ آج انسداد دہشتگردی عدالت نے پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاویدکی ضمانت بعداز گرفتار ی کی درخواست منظورکرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کاحکم جاری کیاتھا،انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید چدھڑ نے صنم جاوید اور محمد تنویر کی بعدازگرفتاری ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنایا ۔
صنم جاوید کی جانب سے شکیل پاشا ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے صنم جاوید نے مسلم لیگ ن کی آفس کو جلانے کے مقدمہ میں ضمانت دائر کر رکھی تھی، ڈپٹی پراسیکیوٹر عبد الجبار ڈوگر نے ضمانت مسترد کرنے کی استدعا کی۔
ڈپٹی پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمہ صنم جاوید نے عوام کو جلاو گھیراو پراکسایا، ملزمہ نے خود بھی پیٹرول بم پھینکے۔ مقدمہ کا چالان بھی جمع ہوچکا ہے کیس کا کچھ دن میں فیصلہ ہو جائے گا۔ تھانہ ماڈل ٹاون پولیس نے پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کیخلاف مسلم لیگ ن کا دفتر جلانے کا مقدمہ درج کر رکھا ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے صنم جاوید کے کاغذات مسترد کئے جانے کے خلاف اپیلوں پر سماعت کرتے ہوئے انہیں تینوں حلقوں میں الیکشن لڑنے کا حکم جاری کیا تھا۔عدالت نے صنم جاوید کی اپیلیں منظور کیں تھیں۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ایکٹوسٹ صنم جاوید خان کو 2 قومی اور ایک صوبائی حلقے میں الیکشن لڑنے کیلئے انتخابی نشان الاٹ کردیئے گئے تھے ۔آزاد امیدوار صنم جاوید خان کو ریٹرننگ افسروں نے دو قومی اور ایک صوبائی حلقے میں الیکشن لڑنے کیلئے انتخابی نشان الاٹ کردیئے، ریٹرننگ افسروں کی جانب سے حلقہ این اے 119 سے ریکٹ، این اے 120 سے تصویر والا فریم اور پی پی 150 سے تکیہ کا انتخابی نشان الاٹ کیا گیا، حلقہ این اے 119 میں صنم جاوید کے مدمقابل پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز الیکشن لڑرہی ہیں۔